سائنسدانوں نے کہکشاؤں میں چھپے 5 سپر بلیک ہولزدریافت کرلیے

008

لندن: کائنات کی کھوج میں لگے سائنس دانوں خلا کی وسعتوں میں ایسے 5 انتہائی بڑے بلیک ہولز کا پتا لگایا ہے جو اس سے پہلے دھول اور گیس کے سبب دکھائی نہیں دیئے تھے اور ساتھ ہی سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ کہکشاؤں میں ایسے کروڑوں بلیک ہولز اور بھی موجود ہیں۔
برطانوی ماہرین فلکیات کے مطابق ان انتہائی بڑے بلیک ہولز کی کمیت سورج کے مقابلے میں اربوں گنا زیادہ ہو سکتی ہے اور ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ تمام بڑی کہکشاؤں کے دل میں واقع ہیں جنہیں ناسا کی انتہائی حساس نواسٹار خلائی دوربین نے ان بلیک ہولز سے نکلنے والی زبردست توانائی والی ایکس ریز کو ریکارڈ کیا۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس نئی دریافت سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اس کائنات میں ایسے مزید کروڑوں بلیک ہولز اور بھی موجود ہیں جو کہ کسی کہکشاں کے پیدا ہونے اور اس کی نشوونما میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
بلیک ہولز کے بارے میں سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ ستاروں کے پھٹنے سے پیدا ہوتے ہیں اور یہ اس قدر کثیف اور بڑے ہوتے ہیں کہ ان کی کشش ثقل روشنی تک نہیں پہنچ پاتی۔ پانچ کہکشاؤں کے قلب میں واقع ان بلیک ہولز سے نکلنے والی زبرست توانائی کے حامل ایکس ریز کے سبب ان کا پتا چل سکا ہے۔
یونیورسٹی آف ڈرہم سے تعلق رکھنے والے تحقیق کے بانی جارج لینسبری کا کہنا ہے کہ سائنس دان کافی عرصے سے انتہائی بڑے بلیک ہولز کے بارے جانتے تھے جو دھول اور گیس کے کی وجہ نظروں سے اوجھل ہیں۔ انہوں نے ان بلیک ہولز کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ نواسٹار کے سبب سائنس دان پہلی بار ان چھپے ہوئے عظیم الشان (سپر بلیک ہولز) کو دیکھ رہے ہیں جن کے بارے کہا گیا ہے کہ وہ وہاں ہیں لیکن اس سے پہلے وہ اپنی ’’مدفون‘‘ حالت کے سبب گریزاں تھے۔
ناسا میں نواسٹار پروجیکٹ پر کام کرنے والے سائنسداں ڈاکٹر ڈینیئل سٹیم کا اس دریافت پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے کہنا تھاکہ زیادہ توانائی والی ایکس ریز کم توانائی والی ایکس ریز کے مقابلے میں زیادہ گہرائی تک داخل ہوسکتی ہیں جن کی مدد سے گیس میں زیاد گہرائی میں بھی دیکھا جاسکتا ہے اسی کی بدولت سائنس دان یہاں مدفون یا چھپے ہوئے بلیک ہولز کو دیکھ سکے۔

Leave a Reply