وائی فائی کی شعاعوں کے خوف سے برطانوی خاتون نے برقع پہننا شروع کردیا

009

لندن: برطانوی خاتون جیکی لنڈسے گھر سے باہر نہیں جاتیں جب بھی باہر نکلتی ہیں وہ اپنے پورے بدن کو ایک بھورے لباس میں لپیٹے رکھتی ہیں کیونکہ وہ سمجھتی ہیں کہ وائی فائی کی ریڈی ایشن ( شعاع) سے وہ ہلاک ہوجائیں گی۔
لنڈسے کہتی ہیں کہ انہیں بجلی سے الرجی ہے جسے ’الیکٹرومیگنیٹک ہائپرسینسٹی وٹی‘ (ای ایچ ایس) کہا جاتا ہے اوران کے بقول موبائل فون اوروائی فائی سگنل انہیں کرنٹ کی طرح جھٹکا پہنچاسکتے ہیں اورڈاکٹراس کی تصدیق کرتے ہیں کہ یہ الرجی ان کے لیے جان لیوا بھی ہوسکتی ہے۔

اپنے گھرمیں وہ بجلی کا استعمال نہیں کرتیں اورتیل والے لیمپ اورموم بتیوں سے گھرکوروشن رکھتی ہیں۔ گھر سے باہرنکلتے وقت وہ خاص برقع نما لباس استعمال کرتی ہیں جس میں چاندی کے تارہیں جو الیکٹرومیگنیٹک شعاعوں کو روکتا ہے اور باہر نکلتے وقت وہ اپنے ساتھ الیکٹرومیگنیٹک فیلڈ ڈیوائس ( ای ایم ایف) رکھتی ہیں تاکہ اس کی شدت سے خود کو محفوظ بناسکیں۔ 8 سال قبل انہیں اعصابی امراض، بے ہوشی، ہاتھوں میں سنسناہٹ اوردیگرامراض محسوس ہوئے اورتحقیق سے معلوم ہوا کہ وہ ای ایچ ایس میں مبتلا ہیں اور برطانیہ سمیت دنیا بھر میں کئی افراد ایسے مرض کا شکار ہوتے ہیں۔

Leave a Reply