آج کا سٹیج ڈرامہ نائٹ کلب بن چکا ہے

in01

فلم ‘ٹی وی اور سٹیج کے معروف اداکار عثمان پیرزادہ سے تفصیلی گفتگو
رفیع پیرزادہ۔ ایک مکمل ادارے کا نام۔ یہ وہ شخصیت تھے جنہوں نے پاکستان میں تھیٹر کو نئی رفعتوں سے آشنا کیا ان کی خدمات کو کبھی نہیں بھلایا جا سکتا۔ ان کے بیٹوں عثمان پیرزادہ ،سلمان پیرزادہ اور فیضان پیرزادہ نے بھی اس محاذ پر گرانقدر کام کیا ۔خاص طور پر ان کے منعقد کئے گئے انٹرنیشنل آرٹ فیسٹیول نے بے شمار کامیابیاں حاصل کیں۔ ان گنت آرٹسٹوں نے اس فیسٹیول کے ذریعے اپنی پہچان بنائی۔ اس فیسٹیول میں شرکت کے لیے دنیا بھر سے فنکار شرکت کرتے ہیں۔ عثمان پیرزادہ وہ فنکار ہیں جنہوں نے ٹی وی فلم اور سٹیج پر بہت کام کیا ہے۔ان کے کئی ٹی وی ڈراموں نے مقبولیت حاصل کی۔ فلم میں بھی انہیں جو کردار ملا انہوں نے اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کا خوب مظاہرہ کیا۔ ان کی شہرت بیرون ملک بھی پہنچی اور فن کی دنیا میں انہیں احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ ان کی اہلیہ ثمینہ پیرزادہ بھی ایک نامور اداکارہ اور ہدایت کارہ ہیں۔ انہوں نے بھی ٹی وی ڈراموں اور فلمو ں میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ ثمینہ پیرزادہ کی فنکارانہ صلاحیتوں کا بالی وڈ والے بھی کھلے دل سے اعتراف کرتے ہیں ۔ حال ہی میں روزنامہ دنیا نے سنڈے میگزین کے لیے عثمان پیرزادہ کا انٹرویو کیا جس کی تفصیلات ذیل میں پیش کی جا رہی ہیں۔ سوال :عثمان پیرزادہ صاحب سب سے پہلے ہم آپ کی ابتدائی زندگی کے بارے میں کچھ جاننا چاہیں گے۔ عثمان پیرزادہ: بھائی میں 5فروری1952کو لاہور میں پیدا ہوا۔ میں جس گھر میں پیدا ہوا وہ آرٹ کا گہوارہ تھا۔ اور یہ سب میر ے والد کی وجہ سے تھا۔ میں نے ان تمام شخصیات کو لائبریری میں بیٹھے ہوئے دیکھا جو میرے والد کے پاس بیٹھی ہوتی تھی ۔سیکرٹریٹ کے قریب ایک سکول ہوتا تھا جہاں میں اور میرے بڑے بھائی پڑھتے تھے یہ بڑا شاندار سکول تھا میں نے نویں جماعت تک یہاں تعلیم حاصل کی لیکن میٹرک کا امتحان میں نے پرائیویٹ طالب علم کی حیثیت سے دیا ۔اس کی وجہ یہ تھی کہ مجھے کالج جانے کا بہت شوق تھا۔ اس لیے میں نے نویں جماعت میں ہی میٹرک کا امتحان دے دیا۔ میں نے ہائی سکینڈ ڈویژن حاصل کی۔ میں بہت اچھا سپورٹس مین تھا۔ مجھے گورنمنٹ کالج میں Kinshipکی بنیاد پر داخلہ مل گیا کیونکہ میرے دادا علامہ اقبال کے قریبی دوست تھے۔ دونوں نے بیرسٹری بھی اکٹھے ہی کی تھی۔ یہاں میں آپ کو یہ بھی بتا دوں کہ مولانا محمد علی جوہر نے میرے والد کو گود لیا تھا۔ میں گورنمنٹ کالج میں چھ سال تک رہا۔ ایم اے انگریزی ادب تک پڑھائی کی لیکن امتحان نہیں دیا۔اس کی وجہ 1971ء کی پاک بھارت جنگ تھی جس کی وجہ سے امتحان میں غیر معمولی تاخیر ہو گئی۔ میں کالج کے زمانے میں زیادہ تر تھیٹر پر کام کرتا رہا۔1974ء میں پہلی فلم ملی جس کا نام تھا ’’مسافر‘‘ یہ جاوید جبار صاحب کی فلم تھی ۔ میرے والد صاحب پنجابی کے پہلے ڈرامہ نویس تھے میں نے سرمد صہبائی کے ڈراموں سے شروعات کی۔ ان کے ایک پنجابی ڈرامے میں بھی کام کیا۔ میں نے انگریزی ادب پڑھ رکھا ہے جو میرے بہت کام آیا۔ تھیٹر پر برنارڈ شاہ اور کئی جرمن اور فرانسیسی ڈرامہ نگاروں کے ترجمے پیش کئے جاتے تھے جن میں،میں کام کرتا رہا۔ سوال:مسافر تو فلاپ فلم تھی سنا ہے لوگوں کو اس کی سمجھ ہی نہیں آئی۔ آپ کو اس فلم میں کام کر کے کیا حاصل ہوا؟ عثمان پیرزادہ: دیکھیں مسافر ایک بالکل مختلف فلم تھی۔ جاوید جبار اس کے پروڈیوسر ،رائٹر اور ڈائریکٹر تھے۔ اس جیسی فلم تو بھارت میں بھی نہیں بن رہی تھی۔ آرٹ فلموں کا دور بھارت میں 80کی دہائی میں شروع ہوا۔ یہ فلم ممبئی فلم فیسٹیول میں بھی دکھائی گئی۔ یہ طے تھا کہ اس فلم کی ڈبنگ نہیں ہوگی۔ میں ایک مکالمہ انگریزی زبان میں بولتا تھا جس کا دوسرا ورشن (Versionاردو میں ہوتا ۔ ہم جیسے لوگوں کی یہاں قدر نہیں کی جاتی بلکہ انہیں مار دیا جاتا ہے۔ بھارت میں آرٹسٹ کو بنایا جاتا ہے یہاں آرٹسٹ کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے اور اس کی صلاحیتوں کا تمسخر اڑایا جاتا ہے۔ ان حالات میں وہ بے چارہ کیا کرے گا۔آپ امیتابھ بچن کی مثال لیں اسے بھارت کے فلمی جوہریوں نے تراشا اور یوں ایک عظیم فنکار وجود میں آیا ۔ یہ جوہری نہ ہوتے تو امیتابھ بچن کہاں ہوتا۔؟ بہرحال میںبتا رہا تھا کہ 1986میں میری فلم ’’نزدیکیاں‘‘ ریلیز ہوئی جو ایک سستے بجٹ کی فلم تھی ۔ اس فلم کو چار نیشنل ایوارڈ ملے اس طرح پاکستان اور سری لنکا کی مشترکہ فلم سازش ، میں بھی میں نے اداکاری کی۔ سازش باہر بنی۔ میں نے کئی عالمی اداکاروں کے ساتھ کام کیا۔ سوال: آپ نے ضیاء دور میں ایک ڈرامہ ’’تیسرا کنارا‘‘ میں کام کیا تھا اس ڈرامے کو متنازعہ بنا دیا گیا۔ اس کی کیا وجہ تھی؟ عثمان پیرزادہ : ضیاء الحق کے دور میں ہر دوسری چیز کو متنازعہ بنا دیا جاتا تھا، آرٹ کو جتنا نقصان ضیاء الحق کے دور میں پہنچا، اس کی مثال نہیں ملتی۔ اس ڈرامے کے پروڈیوسر شہزاد خلیل تھے اور وہ بڑے ذہین آدمی تھے آپ یقین کریں کہ تیسرا کنارہ وہ ڈرامہ تھا جس کے امیتابھ بچن اور جیا بہادری بھی دیوانے تھے۔ میں تھوڑا عرصہ پہلے ہی میں بھارت سے ہو کر آ رہا ہوں۔ مجھے اور ثمینہ کو جتنی پذیرائی بھارت میں ملتی ہے میں اسے لفظوں میں بیان نہیں کر سکتا۔ ایک زمانہ تھا جب میں امرتسر میں پیدل نہیں چل سکتا تھا کیونکہ ہمارا ہر ٹی وی ڈرامہ وہاں بہت مقبول تھا اور لوگ ہمیں خوب پہچانتے تھے۔ ممبئی میں ’’زندگی‘‘ چینل صرف پاکستانی ڈرامے دکھاتا ہے جو بہت پسند کئے جاتے ہیں۔ میرے اور ثمینہ کے کئی ڈرامے چلے اور وہاں کے لوگوں نے ہمیں اتنی عزت دی کہ بیان نہیں کر سکتا۔ سوال: آپ نے یکایک پنجابی فلموں میں کام کرنے کا کیوں فیصلہ کیا اور پھر آپ نے بعد میں ایک پنجابی فلم بھی بنائی۔ یہ پہلے سے طے شدہ تھا یا یہ سب کچھ اچانک ہوا؟ عثمان پیرزادہ: اچانک تو نہیں ہوا بس حالات ایسے بن گئے تھے … میری پہلی پنجابی فلم ’’عالی جاہ‘‘ تھی جو 1978ء میں ریلیز ہوئی اور یہ فلم سپرہٹ ہوئی۔ اس فلم کا مرکزی کردار تو مصطفی قریشی نے ادا کیا تھا لیکن رومانوی ہیرو کے طور پر مجھے کاسٹ کیا گیا ۔ یہ حیران کن بات نہیں تو اور کیا ہے کہ یہ فلم سلطان راہی کے بغیر کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔ اب میں نے اس فلم میں کیسے کام کیا۔ یہ کہانی بھی سن لیں۔’’ عالی جاہ‘‘ کے پروڈیوسر گابا صاحب میرے پاس آئے اور کہنے لگے یار غضب ہو گیا پنجابی فلم ’عالی جاہ‘ بنا رہا ہوں ۔ یہ شاہد نجانے کہاں غائب ہوگیا ۔میں تمہیں اس کی جگہ کاسٹ کرنا چاہتا ہوں ۔رومانٹک ہیرو کے طور پر تم بہت کامیاب رہو گے ۔ میں نے کہا میں پنجابی فلم میں کام نہیں کروں گا۔اس پر گابا صاحب نے بڑا شاندار کارڈ کھیلا ۔ انہوں نے مجھے کہا کہ تم نہیں جانتے کہ تمہارے والد صاحب پنجابی کے پہلے ڈرامہ نویس تھے اور تم پنجابی فلم میں کام کرنے سے انکار کر رہے ہو۔ میں نے کہا بات تو درست ہے۔ دراصل انہوں نے مجھے جذباتی طور پر بلیک میل کیا اوروہ اپنی اس کوشش میں کامیاب رہے۔ کالج کے زمانے میں سوچتے تھے کہ سینما کے اندر جائیں گے۔ پھر سوچا پیسے تو کما لیں گے لیکن ذہنی اطمینان حاصل نہیں ہو گا۔ بہرحال عالی جاہ کے بعد میں نے شمیم آرا کی فلم’’ مس ہانگ کانگ ‘‘ میں کام کیا۔ یہ تجربہ اچھا رہا۔ میرے ساتھ اس فلم میں بابرہ شریف اور منور سعید بھی تھے۔ ان کے ساتھ کام کرنا اچھا لگا۔ شمیم آرا تو بطور اداکارہ بھی مجھے بہت پسند تھیں۔ اب میں ان کی ہدایات میں کام کر رہا تھا۔ پھر مجھے حیدر چودھری کی فلم ’’ایکسیڈنٹ ‘‘ میں کام کرنے کا اتفاق ہوا۔ مجھے نجمہ کے ساتھ ہیرو لیا جا رہا تھا۔ لیکن میں نے کہا کہ اس فلم میں جو پاگل کا کردار ہے وہ میں کروں گا ۔پاگل کے کردار میں میری اداکاری کو بہت پسند کیا گیا اس میں مہدی حسن کی آواز میں ایک گیت بہت مقبول ہوا۔ یہ گیت مجھ پر پکچرائز کیا گیا۔ جس کے بول تھے ’’تمہارا آخری کر لوں نظارہ پھر چلے جانا‘‘ بعد میں مجھے علم ہوا کہ یہ فلم دو بھارتی فلموں’’کالی چرن‘‘ اور ’’کھلونا‘‘ کا چربہ تھی۔ یہ فلم باکس آفس پر اگرچہ فلاپ ہوئی لیکن جتنی بھی چلی اس گانے کی وجہ سے چلی۔ اب میں بات کروں گا اپنی پنجابی فلم ’’گوری دیا جھانجھراں‘‘ کی ۔یہ فلم کامیابی سے ہمکنار ہوئی اور اس میں ندیم صاحب نے کام کیا تھا۔ لیکن ایک بات میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ اس فلم میں ، میں نے جو کردار ادا کیا تھا وہ مجھ سے پہلے سلطان راہی ادا کر رہے تھے۔ سلطان راہی مجھ سے بڑی محبت کرتے تھے لیکن بعد میں اپنی بے پناہ مصروفیات کی وجہ سے وہ میری فلم میں کام نہ کر سکے۔ پھر مجھے ان کا کردار نبھانا پڑا۔ سوال: اس فلم کی کامیابی کی وجہ سے تو آپ کو اچھا خاصا منافع ہوا ہو گا۔ پھر آپ نے کیا کیا؟ عثمان پیرزادہ: بھائی صاحب منافع کی کیا بات کرتے ہیں ۔ ہم نے تو فلمیں بنا کر سخت مالی نقصان اٹھایا۔ ڈسٹری بیوٹروں نے ہمارے ساتھ دھوکہ کیا اور ہمارا سارا پیسہ ہضم کر گئے۔ ثمینہ کی فلم ’’انتہا‘‘ بھی سپرہٹ فلم تھی ۔لیکن ہمیں کوئی پیسہ نہیں دیا گیا۔ ڈسٹری بیوٹر سلیم مانڈوی والا نے ابھی تک ہماری فلم ’’انتہا‘‘ کے پیسے ادا نہیں کئے۔ اب بتائیں ہم کیا کریں۔ سوال: فلمیں چھوڑ کر جب آپ ٹی وی پر دوبارہ آئے تو کیا محسوس کیا؟۔ عثمان پیرزادہ:حقیقت یہ ہے کہ میں نے ٹی وی کا بہترین کام فلمیں چھوڑ کر کیا۔ میری سوچ یہ تھی کہ فلمی صنعت ختم ہو گی تو ایک نئی فلمی صنعت جنم لے گی۔ فلمی صنعت کی تباہی کے ذمہ دار خود فلمی صنعت کے کرتا دھرتا ہیں انہوں نے اتنا گند ڈالا کہ فلمی صنعت تباہی کے دہانے پر آن کھڑی ہوئی۔ جہاں تک سٹیج ڈرامے کا تعلق ہے تو میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آج کا سٹیج ڈرامہ نائٹ کلب بن چکا ہے۔ اس میں فحاشی کے سوا کچھ نہیں۔ تھیٹر ڈانس کے بغیر بانجھ ہے لیکن جس قسم کے ڈانس ہمارے تھیٹر پر کئے جا رہے ہیں ان کا آرٹ سے کیا تعلق ہے ؟یہ شرمناک بھی ہے اور افسوسناک بھی ۔ سوال: آپ کے نزدیک ٹی وی ڈرامے کا کیا مستقبل ہے؟ عثمان پیرزادہ : دیکھیں اس وقت بہت سے ٹی وی چینل آ گئے ہیں۔ اسی لحاظ سے ڈراموں کی بہتات ہو گئی ہے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ معیار وہ نہیں رہا۔ ہمارے زمانے میں ریہرسل ہوتی تھی۔ جو رائٹر ہوتا تھا اس کو نئے نئے خیالات ملتے رہتے تھے۔ کام بہت زیادہ Mechanizedہو گیا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ میں یہ بھی کہوں گا کہ اچھا کام بھی ہو رہا ہے۔ ٹی وی ڈرامہ اس خطے میں اب بھی بہت آگے ہے بلکہ میں تو یہ کہتا ہوں کہ ہمارا ڈرامہ اب بھی بھارت سے بہت آگے ہے۔کچھ برس پہلے بھار ت کے مشہور ہدایت کار گوند نہلانی رفیع پیر فیسٹیول میں آئے تھے۔ انہوں نے بھی ہمارے ٹی وی ڈرامے کی بڑی تعریف کی تھی۔ گوند نہلانی یہاں فلم بنانا چاہتے تھے۔ گوند نہلانی بنیادی طور پر کیمرہ مین ہیں ان کے پاس سکرپٹ تھا فلم کا نام تھا ’’جنے لہور نہیں ویکھیا‘‘ لیکن کچھ وجوہات کی بناء پر وہ فلم نہیں بن پائی۔ میں بہرحال ٹی وی ڈرامے کا بہتر مستقبل دیکھ رہا ہوں۔ہمارے پاس بڑے ذہین نوجوان اداکار ہیں ۔وہ تعلیم یافتہ بھی ہیں اور ان میں وقت کے ساتھ چلنے کی صلاحیت بھی ہے۔ ان کو دیکھتے ہوئے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ ہمیں اپنے ٹی وی ڈرامے سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ سوال:کیا کسی حکمران کے دور میں پرفارمنگ آرٹ کی طرف توجہ دی گئی۔؟ عثمان پیرزادہ:صدر پرویز مشرف کے دورمیں پرفارمنگ آرٹ کی ترقی کے لیے بہت کچھ کیا گیا۔ آپ اس بات کو ملحوظ خاطر رکھیں کہ ان کے دور میں نیشنل پرفارمنگ آرٹ اکیڈمی (Napa)کا قیام عمل میں لایا گیا۔ سوال: آپ کے خیال میں اداکاری کا مطلب کیا ہے؟ عثمان پیرزادہ:اس سلسلے میں ،میں آپ کو اپنے والد رفیع پیرزادہ کا یہ بیان سناتا ہوں یہ بیان نہیں بلکہ ایک ایسا حوالہ ہے جسے کسی بھی جگہ بلا تامل پیش کیا جا سکتا ہے۔ یہ ذرا غور فرمائیے انہوں نے کیا کہا تھا۔’’ڈرامہ … موسیقیت سے لبریز آواز میں ناچتے ہوئے ،گاتے ہوئے افراد کی خیال افروز حرکات کے سیل روا ں کا نام ہے جس کے مشاہدے سے وجدان انسانی میں سرخوشی کے ابدی چراغ جل اٹھیں‘‘ سوال:کئی عشرے پہلے ایک ٹی وی ڈرامہ کے حوالے سے جس میں آپ اور آپ کی اہلیہ کام کر رہی تھیں، فتویٰ دیا گیا تھا کہ آپ دونوں میں طلاق ہو چکی ہے۔ یہ قصہ کیا تھا؟ عثمان پیرزادہ : بھائی صاحب اس سارے واقعے سے ہم بہت پریشان ہوئے۔ ٹی وی ڈرامے میں،میں ثمینہ پیرزادہ کو طلاق دے دیتا ہوں۔ ایک عالم صاحب نے شور مچا دیا کہ یہ طلاق حقیقی معنوں میں ہو گئی ہے لیکن دوسرے علماء نے کہا کہ یہ غلط ہے۔ اس پر خواہ مخواہ ہی بحث چھڑگئی۔ ہمارے لیے یہ بہت پریشان کن بات تھی۔ دنیا بھر میں یہ خبر گئی اور اب ذرا خود سوچیں کہ ہمارے ملک کے بارے میں کیا پیغام باہر گیا۔ اس قسم کی باتوں سے ملک کا امیج بھی خراب ہوتا ہے۔ ہمارے لوگوں کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ ان کی بے احتیاطیوں سے ملک کا نام بدنام ہوتا ہے۔ انہیں ایسی باتوں سے اجتناب کرنا چاہیے۔ سوال: سرکاری ٹی وی کے طویل دورانیے کے کھیل (Long Plas)بہت مقبول ہوئے اور انہوں نے کئی فنکاروں کو لازوال شہرت سے بھی نوازا۔ آپ کا اپنا پسندیدہ لانگ پلے کون سا ہے۔ جس میں آپ اپنی اداکاری سے مطمئن ہوں؟ عثمان پیرزادہ : اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک زمانے میں سرکاری ٹی وی کے طویل دورانیے کے ڈراموں نے بڑی دھوم مچا رکھی تھی۔ یہ واقعی اعلیٰ معیار کے ڈرامے تھے اور بھارت میں بھی ان کی بھی بڑی شہرت تھی۔ ہمارے ٹی وی کے فنکار ان ڈراموں کی بدولت بہت مشہور ہوئے اور ان ڈراموں نے ان کے فن کو جلا بخشی ۔جہاں تک میرے اپنے پسندیدہ لانگ پلیز کا تعلق ہے تواس سلسلے میں وہ دو ڈراموں کا نام لوں گا۔ ایک کا نام ہے ’’سٹیٹس ‘‘اور دوسرے کا نام ہے،’’ وادی پرخار‘‘ ان دونوں ڈراموں میں اداکاری کرنے کا مجھے بہت لطف آیا۔ ایک تو میرے کردار ہی ایسے تھے ، دوسرے میں محسوس کرتا ہوں کہ میں نے پوری محنت اور لگن سے ان ڈراموں میں کام کیا۔ یہ فطری بات ہے کہ جب آپ کو کردار پسند آ جائیں تو پھر آپ اسے امر بنانے کے لیے اپنا سارا فن اس میں سمو دیتے ہیں ۔بس یوں سمجھ لیں کہ یہ دونوں ڈرامے میری شناخت ہیں۔ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ فلمیں چھوڑ کر جب میں ٹی وی پرآیا تو کام کرنے کا بہت مزا آیا۔ آپ جن طویل دورانیے کے ڈرامو ں کی بات کر رہے ہیں، یہ 80کی دہائی کے ہیں۔ ٹی وی ڈراموں کے حوالے سے 80ء کی دہائی میرے لیے بہت اہم تھی۔ مجھے اس سارے عرصے میں اپنے فن کو نئی جہتوں سے آشنا کرنے کا بھر پور موقع ملا۔ سوال: آپ نے بہت سے ٹی وی ڈرامہ پروڈیوسر ز کے ساتھ کام کیا ۔سب سے زیادہ کس کے ساتھ کام کرنے کا مزا آیا ۔یا یوں سمجھ لیں کہ کس ڈرامہ پروڈیوسر کے ساتھ کام کر کے آپ نے ذہنی اطمینان حاصل کیا؟ عثمان پیرزادہ : شہزاد خلیل کا کام بہت اچھا تھا۔ اس کے علاوہ کنور آفتاب کے ساتھ بھی کام کرنا اچھا لگا ڈرامہ پروڈیوسرز ذہین اور پڑھا لکھا ہو تو اس کے ساتھ کام کرنے کا بہت مزا آتا ہے۔ سوال: ٹی وی ڈرامہ آرٹسٹوں میں آپ کو کن لوگوں نے سب سے زیادہ متاثر کیا؟ عثمان پیرزادہ: شکیل، طلعت حسین، راحت کاظمی، ساحرہ کاظمی، ثمینہ پیرزادہ ، صبا پرویز، اس کے علاوہ سلمان شاہد بھی بہت پسند ہیں۔ سوال: رفیع پیر تھیٹر ورکشاپ ایک این جی او ہے ۔ یہ بات تو سب جانتے ہیں ۔کچھ عرصہ پہلے اس این جی او پر یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ اس میں کروڑوں روپے کی مالی بدعنوانیاں کی گئی ہیں۔ کیا یہ الزام درست ہے؟ عثمان پیرزادہ:یہ بالکل بے بنیاد الزام ہے ہماری یہ تنظیم ہمارا اثاثہ ہے اس کے خلاف غلط پروپیگنڈہ کیا گیا میں نہیں جانتا اس کے پیچھے کون تھا۔ جس اخبار میں یہ سب کچھ چھپا میں نے اس کے خلاف مقدمہ کیا ہوا ہے۔ مجھے بہت دکھ ہے کہ آخر ایسا پروپیگنڈہ کیوں کیا گیا۔ سوال: چلیں سٹیج ڈراموں میں تو جو کچھ ہو رہا ہے اس کی مذمت کی جا سکتی ہے لیکن ہمارے ٹی وی ڈراموں اور فلم کی کامیڈی کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟ عثمان پیرزادہ: ہماری کامیڈی کا تو پوری دنیا میں کوئی ثانی نہیں میرے بھائی۔ منور ظریف ،رنگیلا اور ننھا جیسے کامیڈین آپ کو پوری دنیا میں نہیں ملیں گے۔ اس حوالے سے بھارت ہمیشہ ہم سے پیچھے رہا ہے۔ سوال: دیانت داری سے بتائیے کہ ثمینہ بیوی کی حیثیت سے زیادہ اچھی ثابت ہوئیں یا ان کی اداکاری نے آپ کو زیادہ متاثر کیا؟ عثمان پیرزادہ: ایمانداری کی بات یہ ہے کہ ثمینہ بیوی بھی بہت اچھی ہیں اور اداکارہ بھی باکمال ۔ اس کے علاوہ ان کی ذہانت کی سطح (Intellectual level)بھی بہت بلند ہے۔ سوال : آج کل آپ کیا کر رہے ہیں؟ عثمان پیرزادہ: میں ایک ڈرامہ سیریل ڈائریکٹ کر رہا ہوں ۔ اب یہ مکمل ہونے کے قریب ہے۔ نومبر،دسمبر تک یہ ایک چینل پر آن ایئر ہو جائے گی۔ ویسے میں کلچرل کمپلیکس میں مصروف رہتا ہوں۔ سوال: اپنی فیملی کے بارے میں کچھ بتائیے؟ عثمان پیرزادہ:میری دو بیٹیاں ہیں اور دونوں کینیڈا میں ہیں۔ چھوٹی کی شادی ہو چکی ہے۔ بڑی بیٹی مانٹریال یونیورسٹی میں عورتوں کی سٹڈی کر رہی ہے۔ ماشاء اللہ دونوں بڑی ذہین ہیں میں اپنی فیملی لائف سے بہت مطمئن ہوں۔ انشاء اللہ آگے بھی سب ٹھیک ہو گا۔

Leave a Reply