جہیز نہ ہونے سے لڑکیاں بن بیاہے زندگی گزارنے پر مجبور

1

جہیز ایک فرسودہ رسم ہے جس کی وجہ سے بیشتر گھرانوں میں نوجوان لڑکیوں کی شادیاں نہیں ہوپارہی اور شادی ایک کاروبار کی شکل اختیار کرگئی ہے۔
ایکسپریس سروے کے مطابق ہمارے اردگرد بے شمار سفید پوش گھرانے اپنی بیٹیوں کی شادی کے لیے پریشان نظر آتے ہیں، جہیز کی رسم ناسور کی طرح پورے معاشرے میں پھیل چکی ہے موجودہ دور میں جہیز شادی کی راہ میں سب سے بڑی روکاوٹ ہے جس کی وجہ سے نوجوان لڑکیاں والدین کے گھر بن بیاہے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، بے شمار لڑکیوں کے والدین کوجہیز کی رسم نے قرضوں میں دبادیا ہے، وقت پر شادی نہ ہونے سے بیشتر لڑکیاں اور خواتین نفسیاتی امراض میں مبتلا ہوگئی ہیں، لڑکیوں کی شادیاں نہ ہونے سے سماجی برائیاں، خودکشی، طلاق، چوری، پرتشدد اموات، دھوکا دہی اور سماجی مسائل جنم لے رہے ہیں بہتر رشتہ ملنے پر لڑکیوں کی منگنی ہو بھی جاتی ہے لیکن جیسے ہی لڑکے کو مالی طور پر مستحکم دوسرا گھر نظر آتا ہے تو لڑکی سے پہلی منگنی توڑ کو دوسرا رشتہ طے کرلیا جاتا ہے لڑکے اور اس کے اہل خانہ کو لالچ ہوتی ہے کہ بیٹے کی شادی کے بدلے میں لڑکے کا مستقبل سنور جائے اکثر لڑکے گرین کارڈ، کاروبار میں مدد، بیرون ملک ملازمت اور بزنس میں شراکت کے حصول کیلیے سرگرم رہتے ہیں معاشرے میں جہیز نے قدم مضبوطی سے جما لیے ہیں جہیز نے بے شمار اخلاقی برائیوں کو جنم دیا ہے، لاکھوں لڑکیوں کی عمر صرف اس لیے ڈھل رہی ہے چونکہ ان کے والدین جہیز دینے کی استطاعت نہیں رکھتے ۔
معاشرے میں جہیز کی رسم ختم کرنے کے لیے انسانوں کی سوچ تبدیل کرنے کی ضروت ہے جس کے لیے نوجوانوں کو آغاز کرنا ہوگا،یہ بات سیاسی رہنما مہتاب اکبر راشدی نے گفتگو میں کہی انھوں نے کہا کہ لڑکوں کی مائیں شادی کے لیے جہیز سے متعلق لڑکی کے والدین کی مجبوریوں سے سبق لیں، بدقسمتی سے لڑکوں کی مائیں شادی کے لیے وافر مقدار میں جہیز مانگتی ہیں ، رکن سندھ اسمبلی نصرت سحر عباسی نے گفتگو میں بتایا کہ جہیز جیسی فرسودہ رسم کی ممانعت کے حوالے سے اسمبلی میں قانون سازی کے لیے بل پیش کیا جائے گا اس حوالے سے مختلف جماعتوں کی خواتین ارکان اسمبلی مل کر کوشش کریں گی اور مشترکہ طور پر بل تیار کرکے منظوری کے لیے اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔
کراچی میں غریب طبقے کی لڑکی کی شادی میں جہیز کی ادائیگی کے حوالے سے50 ہزار سے ایک لاکھ روپے تک خرچ ہوتے ہیں اس خرچے میں سونا اور لڑکی کو دیا جانے والا سامان شامل نہیں ہوتا، متوسط طبقے میں لڑکی کی شادی پر جہیز کے لیے 3 سے 5 لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں جس میں سونا، گھریلو استعمال کی اشیا فریج، واشنگ مشین ، ٹی وی ، اے سی فرنیچر، برتن اور تمام ضروری سامان شامل ہوتا ہے اور لڑکے کی ڈیمانڈ پر اسے موٹر سائیکل بھی دلائی جاتی ہے۔
جہیز کی رسم نے موجودہ دور میں خطرناک صورت اختیار کرلی ہے جس میں دولت کی حوس اور لالچ کا عنصر نمایاں ہے یہ بات معروف تجزیہ نگار مقتدا منصور نے گفتگو میں کہی انھوں نے کہا کہ خوشگوار ازدواجی زندگی کے لیے شوہر اور بیوی کے مابین ذہنی ہم آہنگی ضروری ہے، شادی بنیادی طور پر شوہر اور بیوی کا مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دینے کا معاہدہ ہوتا ہے جس کے لیے لڑکے اور لڑکی کا ایک دوسرے کے لیے قابل قبول ہونا لازمی ہے۔

Leave a Reply