حاملہ خواتین مچھلی کھائیں اور اپنے بچوں کو ذہین بنائیں

22

مڈرڈ: تحقیق کے مطابق حاملہ خواتین ہفتے میں تین مرتبہ مچھلی کھائیں تو اس سے ہونے والے بچے کا دماغ بڑھتا ہے اور بچے کو مستقبل میں بھی بہت مثبت فوائد حاصل ہوتے ہیں۔

اسپین میں ایک طویل مطالعے میں 2000 ماؤں اور ان کے حمل کے تیسرے ہفتے سے لے کر بچے کی پانچ سالہ عمرتک کا جائزہ لیا گیا جس سے ظاہر ہوا کہ جن خواتین نے مچھلی کا مناسب استعمال کیا تھا ان کے بچوں کے دماغ قدرے بڑے تھے اوران کی کارکرد گی بھی مچھلی نہ کھانے والی ماؤں کے بچوں کے مقابلے میں بہتر تھی۔ ماں کی خوراک بچے کی نشوونما پر اثرانداز ہوتی ہے لیکن ماں سے بچے تک منتقل ہونے والے مچھلی کے فوائد پہلی مرتبہ منظرِ عام پر آئے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حمل کے دوران خواتین ہر ہفتے 600 گرام تک مچھلی کھائیں کیونکہ اس کے فوائد سامنے ہیں اورکوئی منفی اثرنہیں بھی پڑتا کیونکہ سمندری غذاؤں میں دماغ و ذہن کے لیے مؤثر اجزا پائے جاتے ہیں۔ اس سروے میں تیل والی مچھلیاں کھانے والی ماؤں پر تحقیق کی گئی اور خواتین میں خون کے ٹیسٹ باقاعدگی سے لیے گئے۔  اس سے معلوم ہوا کہ جن ماؤں نے ہفتے میں مقررہ 600 گرام سے بھی ذیادہ مچھلی کھائی تھی ان کے بچوں کی دماغی نشوونما اور صلاحیت اتنی ہی بہتر تھی یعنی مچھلی کھانے کے ذیادہ شرح اسی تناسب سے مفید ثابت ہوئی۔

دیگر ماہرین نے اس مطالعے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ مچھلی کے اہم اجزا ماں کے پیٹ کے موجود بچے کی دماغی نشوونما اور ترقی میں نہایت اہم کردار ادا کرتےہیں اور جو مائیں اپنے بچوں کا روشن مستقبل دیکھنا چاہتی ہیں وہ دورانِ حمل مچھلی ضرور کھائیں۔

Leave a Reply