ڈپریشن جیسی ذہنی بیماریوں کا دوا کے بغیرطریقہ علاج دریافت

23

نیویارک: ڈپریشن اورپریشانی انسانی دماغ کو کمزور کردیتی ہیں اور وہ رفتہ رفتہ اپنی سوچنے کی صلاحیتیں کھونے لگتا ہے جس سے انسان میں سستی اور کاہلی غالب آجاتی ہے تاہم ایسے افراد کے لیے ماہرین نفسیات نے بغیر دواؤں کے لیے ایسا طریقہ ایجاد کرلیا ہے جس میں انسانی دماغ کے ذریعے ہی سے اس بیماریوں کا علاج ممکن ہے۔

ماہرین نفسیات کے کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں لوگوں کی بڑی تعداد ان بیماریوں کا شکار ہو رہی ہے اور صرف امریکا میں 17 فیصد ڈپریشن جیسی بیماری میں مبتلا ہیں جب کہ موجود طریقہ علاج بھی اس درد کی بہتر دوا ثابت نہیں ہورہا۔ اینٹی ڈپریشن ادویات اور ٹاک تھراپی کے طریقہ علاج کے بارے میں 3000 مریضوں پر کیے گئے سروے کے مطابق صرف ایک تہائی مریض 14 ہفتے تک جاری رہنے والے علاج سے بہتر ہوتے ہیں۔

ماہرین نفسیات کے مطابق اس مشکل پر قابو پانے کے لیے ایک نیا طریقہ علاج دریافت کرلیا گیا ہے جسے ’’نیورو فیڈ بیک یا نیورو تھراپی‘‘ کا نام دیا گیا ہے جس میں انسانی دماغ کی خرابی کو براہ راست ٹارگٹ بنایا جاتا ہے اور انسانی جذبات کا استعمال کرتے ہوئے نفسیاتی بے ربطگی کو دور کر لیا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس طریقہ علاج میں دماغ کی ہونے والی سرگرمیوں کو الیکٹرواینسی فیلو گرافی کے ذریعے ذہن کو خود ہدایات دی جاتی ہیں جن کا تجزیہ ویڈیو اور آواز کے ذریعے کیا جاتا ہے اوراس مقصد کے لیے مریض کے سر پر سینسرز لگائے جاتے ہیں تاکہ ذہن کے اندر بننے والی موجوں کو درست طریقے سے ناپا جا سکے جب کہ ان سینسرز سے آنے والے سگنلز کو فیڈ بیک کے طور پر استعمال کرتے ہوئے دماغ خود اپنا علاج کرتا ہے۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اس علاج سے مریض کے دماغ کے دیگر امراض کو بھی سمجھنے میں مدد ملے گی۔

ڈاکٹرز کے مطابق نیورو فیڈ بیک طریقہ علاج فوبیاز، ذہن طاری ہوجانے والے خوف، نشہ، دماغ میں لگنے والی چوٹ اور شدید درد میں بھی مفید ہوسکتا ہے۔ اس تحقیق کے اہم رکن کا کہنا ہے کہ اس طریقہ علاج میں دوا یا پھر مریض کو بولنے کی ضرورت نہیں ہوتی اور براہ راست دماغ کی سرگرمی سے علاج کر لیا جاتا ہے۔

Leave a Reply