کراچی میں قیامت خیز گرمی سے 2 دن میں جاں بحق افراد کی تعداد 123 ہوگئی

1

کراچی: شہر قائد میں 2 دن سے جاری شدید گرمی کی لہرسے 123افراد جاں بحق ہوگئے جب کہ ڈی ہائیڈریشن اورلولگنے کے باعث متعدد افراد شہر کے مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق قیامت خیز گرمی اور حبس کے باعث شہرمیں 123 افراد جاں بحق ہوگئے، جناح اسپتال میں 85 اورعباسی شہید اسپتال میں 30افراد چل بسے جب کہ سول اسپتال میں 8 افراد انتقال کرگئے، ڈی ہائیڈریشن اورلولگنے کے باعث متعدد افراد شہر کے مختلف اسپتالوں میں اب بھی زیرعلاج ہیں، انچارچ شعبہ حادثات سیمی جمالی کا کہنا تھا کہ متعدد اموات ڈی ہائیڈریشن اور دماغ کی رگ پھٹنے کے باعث ہوئی ہیں۔
شہر ميں جاری شديد گرمی اور حبس كی وجہ سے شہريوں نے انتقال كرجانے والے اپنے پياروں کی ميتيں ايدھی سرد خانے ميں ركھوائیں کیوں کہ گھروں ميں پانی اور بجلی ميسر نہيں جب كہ بازاروں ميں برف بھی دستياب نہيں۔ ايدھی ترجمان کے مطابق شہر میں گرم موسم کے باعث لواحقین نے اپنے پیاروں کی لاشیں اتنی بڑی تعداد میں سرد خانے میں رکھوائیں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ ہفتہ كی صبح 9 بجے سے اتوار كی صبح 9 بجے تک 24 گھنٹے كے دوران سرد خانے ميں 150 ميتيں ركھوائی گئیں۔
ايدھی سرد خانے كے عملے كا كہنا تھا كہ روزمرہ كے دوران شہری ميتيں ركھواتے تھے ليكن حاليہ دنوں ميں گرمی ميں اضافے كی وجہ سے اب اس رجحان ميں اضافہ ہوگيا اور لوگوں كی زيادہ بڑی تعداد اب ايدھی سرد خانے آرہی ہے جہاں ميت كو ٹھنڈک ميں محفوظ ركھا جاتا ہے جب كہ غسل كے ليے پانی بھی وافر مقدار ميں موجود ہے، اس كے علاوہ كفن كا بھی مكمل انتظام ہے ۔
دوسری جانب سی ويو پر شہريوں كی بڑی تعداد نے گرمی اور لوڈشيڈنگ سے نجات حاصل كرنے كے اپنا وقت گزارا، رمضان كے آغاز سے شہر ميں گرمی كی شدت ميں اضافہ كے ساتھ لوڈشيڈنگ اور پانی كی قلت ميں بھی اضافہ ہوگيا، شہر ميں ان دنوں سمندری ہواؤں كا سلسلہ بھی ٹوٹ گيا ہے اور صحرائی ہوائيں چلنے سے گرمی ميں غيرمعمولی اضافہ ہوگيا ہے۔
کراچی کا درجہ حرارت 43 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جب کہ گزشتہ روز کراچی کا پارہ 45 ڈگری پر رہا جو گزشتہ 10 سالوں میں سب سے زیادہ تھا۔

Leave a Reply