زرداری کا نفسیاتی خطاب

زرداری کا نفسیاتی خطاب
طیبہ ضیاءچیمہ
الطاف حسین اور آصف علی زرداری کے نفسیاتی مسائل کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔دیوانوں کی اس جوڑی نے سیاست اور موت کو مذاق بنا رکھا ہے ۔ منشیات اور نفسیاتی ادویات کے استعمال کا ثبوت ان کے بیانات اور خطابات سے مل جاتا ہے ۔ کبھی ہنستے ہیں کبھی روتے ہیں،زہر آلود تقاریر کرتے ہیں اور کبھی میٹھے لہجے میں مکر جاتے ہیں ،کبھی دانت دکھاتے ہیں اور کبھی آنکھیں دکھاتے ہیں،کبھی برہم ہوتے ہیں اور کبھی نرم ہوتے ہیں،گرجتے ہیں اور کبھی چمکتے ہیں اور پھر تھوک کر چاٹ لیتے ہیں،کبھی فوج کے تلوے چاٹتے ہیں اور کبھی دھمکیاں دیتے ہیں، رازداروں کو مروادیتے ہیں اور کبھی اپنی ہی زبان کاٹ لیتے ہیں، بوریاں سلواتے ہیں اور کبھی قبریں کھدواتے ہیں۔ نفسیاتی مرض ”بائے پولر“ کے یہ مریض اپنے وفاداروں اور پیاروں کو بھی موت کے گھاٹ اتار نے سے گریز نہیں کرتے۔ ان لوگوں کے دوغلے پن اور ریا کاری کے عوام عادی ہو چکے ہیں،ان کی غیر متوازن ذہنی حالت سے صرف فوج ہی نبٹ سکتی ہے۔ فوج کا ڈنڈا نہ ہو تو یہ لوگ کب کا ملک بیچ چکے تھے۔ زرداری نے پانچ سال جنرل پرویز کیانی کے طفیل گزارے۔ میاں نواز شریف ،سابق جنرل پرویز کیانی اور آصف علی زرداری کے سیاسی تعلقات مفاد پرستی پر قائم تھے جس کی وجہ سے زرداری جیسا شخص پانچ سال مدت پوری کر گیا۔ میاں نواز شریف کی جنر ل کیانی سے اچھی انڈر سٹینڈنگ تھی، اقتدار میں آ کر جنرل کیانی کے عہدے میں مزید تین سال کی توسیع کے خواہشمند تھے مگر سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے ساتھ ان کے کچھ اختلافات تھے۔ جنرل کیانی کی مدت ملازمت میںتوسیع کی صورت میں انہیں چیف جسٹس افتخار چودھری کی مدت بھی بڑھانی پڑتی گو کہ افتخار محمد چودھری توسیع کے خلاف فیصلہ بھی دے چکے تھے۔ جنرل کیانی کی ریٹائر منٹ کے بعدآرمی چیف کا انتخاب وزیراعظم نواز شریف کے لیئے زندگی کا اہم ترین فیصلہ تھا۔ اس فیصلے کے لئے خاندان اور مشیران سر جوڑ کر بیٹھ گئے۔ ہم نے بھی کالم میں ”استخارہ“ کا مشورہ دیا تھا کہ حکمرانوں کی کرسی کا دارومدار جرنیل کے موڈ سے منسوب ہوتا ہے لہذا اللہ سے بھی مشورہ لینا ضروری ہے۔ نواز شریف نے ہمیشہ اپنے جرنیلوں سے ڈنگ کھایا ہے۔ جرنل راحیل شریف کو آرمی چیف کا منصب سونپ دیا گیا۔ بعض معاملات میں جنرل راحیل کو بھی بائے پاس کرنے کی کوشش کی گئی مگر جنرل راحیل شریف نے میاں صاحبان کے کان پاک بھارت تعلقات کے بارے میں کھول دیئے۔ امریکہ رات کی خاموشی میں آیا اور اسامہ بن لادن کا بوریا اٹھا کر لے گیا اور پاکستان کے محافظوں اور حکمرانوں کو خبر تک نہ ہو سکی؟ یہ وہ عقدہ ہے جو نائن الیون کے واقعہ کی طرح ہمیشہ راز ہی رہے گا۔ اگر کہا جائے کہ امریکی ٹیکنالوجی کے سامنے پاک فوج کے حساس ریڈار ناکارہ ثابت ہوئے تب بھی خطرناک بات ہے، امریکہ آئے اور ملک تہس نہس کر جائے اور پاک فوج بے بسی سے ایک دوسرے کا منہ تکتی رہے اور اگر یہ جواز پیش کیا جائے کہ امریکہ پاکستان کی اجازت سے ایبٹ آباد تشریف لایا تھا تب بھی فوج اور حکومت کی بے بسی کو ملک کی بدنصیبی تصور کیا جاتا ہے۔ لہذا ایبٹ آباد واقعہ کو ایک ڈراﺅنا خواب سمجھ کر بھول جانے میں ہی عافیت ہے ۔ زرداری حاکم وقت تھا، آج فوج کو تنقید کا نشانہ بنا رہا ہے، مت بھولے کہ اس کا پانچ سالہ دور پاکستان کی تاریخ کا ناکام ترین، بدترین اور کرپٹ ترین دور حکومت تھا۔ اس کو پانچ سال کرسی پر بٹھائے رکھنے والے فرینڈلی اپوزیشن میاں نواز شریف اور فرینڈلی جرنیل پرویز کیانی تھے۔ اب جبکہ ملک کے حالات کچھ بہتری کی جانب رواں دواں ہیں، زرداری کا فوج مخالف خطاب اور دھمکیاں ایک ”بائے پولر “ مریض کا خطاب سمجھا جائے۔ بے نظیر کا بچہ اپنی بغل میں بٹھا کر اسے سیاست سکھانے والاپہلے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھ لے۔ اس شخص نے بے نظیر بھٹو اور اس کی اولاد کے ساتھ جو زیادتی کی ہے اس کو اس جہان میں چھپانے کی کوشش کر لو لیکن اگلے جہاں میں انصاف ہو جائے گا۔
بشکریہ نوائے وقت

Leave a Reply