موسمی تغیرات میں غریب ہی کیوں مرتے ہیں؟

saadia qureshi

موسمی تغیرات میں غریب ہی کیوں مرتے ہیں؟
سعدیہ قریشی

غربت اور بدقسمتی دو جڑواں بہنوں کی طرح ایک ساتھ جنم لیتی ہیں اور پھر تمام عمر، ان کا ایک دوجے سے رشتہ لازم و ملزوم ہو جاتا ہے۔ غربت کے دامن سے بدنصیبی کی ہزار داستانیں بندھی ہوتی ہیں۔ ایک ہی طرح کے موسمی حالات غریب پر اور طرح کا وار کرتے ہیں جبکہ خوشحال طبقے کے لیے مختلف معانی رکھتے ہیں۔ سردیوں کے یخ بستہ شب و روز، خوشحال طبقے کے لیے خوبصورت اور رومانٹک ہوتے ہیں مگر یہی موسم غریب کے لیے جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔ فٹ پاتھوں اور بے درو دیوار گھروں میں سوئے بدقسمت افراد ٹھٹھر ٹھٹھر کر مر جاتے ہیں۔ اسی طرح موسم گرما ہے، ایئر کنڈیشنڈ کے خنک ماحول میں ٹھنڈے مشروبات پیتے ہوئے خوشحال لوگ سہولتوں سے محروم لوگوں کی تکلیف کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔ اگر سردی، گرمی میں قدرت مہربان رہے اور کسی بھی موسم کی شدت برداشت سے نہ بڑھے تو غریب اور بے آسرا لوگوں کی زندگی کی ڈور بندھی رہتی ہے اور وہ کسی نہ کسی طور زندگی کی گاڑی گھسیٹے جاتے ہیں وگرنہ دوسری صورت میں وہی کچھ ہوتا ہے جو کراچی میں ہوا اور ابھی تک ہو رہا ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ گرمی کی تباہ کاری غریبوں پر قیامت بن کر ٹوٹی۔ ہیٹ انڈیکس میں غیر معمولی اضافے کے دوران ایئر کنڈیشنڈ گاڑی میں گھومتا کوئی شخص گرمی سے نڈھال ہو کر ہسپتال نہیں پہنچا۔ بتایا گیا ہے کہ کراچی میں حالیہ ہیٹ سٹروک سے جاں بحق ہونے والوں کا تعلق انتہائی غریب طبقے سے تھا۔ فٹ پاتھوں پر سونے والے، سڑکوں کے کنارے رہنے والے،
پائپوں میں اپنا گھر بنانے والے اور جھگی نشین، سماجی اور معاشی اعتبار سے معاشرے کے انتہائی غریب طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ جنہیں پنکھے اور پانی کی سہولت بھی میسر نہیں۔ بس ساحلی ہوا ہی موسم گرما میں انہیں میسر ہوتی ہے۔ کراچی کا درجہ حرارت موسم گرما میں عموماً مناسب رہتا ہے اور یہ بے در اور بے گھر لوگ موسم کے اس مہربان روپ کے عادی تھے۔ شدید گرم موسم میں بچائو کا پہلا اصول خود کو ٹھنڈا رکھنا اور جسم میں پانی کی کمی نہ ہونے دینا ہے۔ اگرچہ بہت سادہ سی حفاظتی ترکیب تھی مگر کراچی کے معاشی طور پر بدحال ترین بے گھروں کے لیے یہ ناممکن سی بات ہے۔ سو یہی طبقہ ہیٹ سٹروک کا شکار ہوا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس حملے میں جو لوگ بچ گئے، وہ ہسپتال چھوڑ کر گھروں کو جانے کے لیے تیار نہ تھے۔ ٹی وی پر ایک خاتون چیخ رہی تھی کہ ”نہ ہمارے گھروں میں بجلی ہے نہ پانی، ہسپتال میں کم از کم ٹھنڈی بوتلیں مل رہی ہیں، برف ہے، پنکھے چل رہے ہیں، ہم کیوں گھروں کو جائیں‘‘۔
اس قدرتی آفت میں حکمران اشرافیہ کا ردعمل دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ انہیں اس بات کا یقین تھا کہ یہ قدرتی آفت صرف شہر کے غریبوں کے لیے ہے۔ مگر شاید وہ یہ بھول رہے تھے کہ اگر غریبِ شہر فاقے سے مرتا ہے تو امیرِ شہر بھی ہیرے سے
خودکشی کر لیتا ہے۔ یہ شعر آپ نے بھی سن رکھا ہو گا ؎۔
غریبِ شہر تو فاقے سے مر گیا عارف
امیرِ شہر نے ہیرے سے خودکشی کر لی
اگر مال مست حکمران طبقے کو وقت ملے تو، موسمی تغیرات کے حوالے سے انٹرنیٹ پر موجود تحقیقاتی رپورٹیں پڑھیں جن میں خبردار کیا گیا ہے کہ موسمی تغیرات اگر اسی طرح معاشرے کے غریب لوگوں کو لقمہ اجل بناتے رہے تو پھر ان ملکوں میں طبقاتی تصادم کا خطرہ پیدا ہو جائے گا، جس کی لپیٹ میں خوشحال اور صاحب اختیار طبقہ ہی آئے گا۔
گارڈین کی ایک رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ آنے والے دنوں میں موسمی تغیرات قدرتی آفت کی صورت اختیار کر لیں گے، قحط سالی اور ہیٹ سٹروکس معاشرے کے خط غربت سے نیچے رہنے والے طبقے کو شدید متاثر کریں گے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایسے حالات میں معاشرے میں خوفناک حد تک موجود معاشی عدم مساوات کا احساس شدت اختیار کر سکتا ہے؛ اس لیے حکمران طبقے اور پالیسی سازوں کو سنجیدگی سے کوئی ایسا لائحہ عمل مرتب کرنا ہو گا جس سے معاشرے کے سماجی اور معاشی طور پر اس کمزور ترین طبقے کو موسمی تغیرات کے براہ راست اثرات سے بچایا جا سکے۔
شہر قائد میں تو ہیٹ سٹروک نے اس سال تباہی مچائی ہے؛ جبکہ گزشتہ تین سالوں سے تھر میں قحط سالی سے ہزاروں اموات ہو چکی ہیں۔ اس سنگین مسئلے کے بارے میں حکمرانوں کا طرز عمل سب کے سامنے ہے۔ تھر کے بارے میں تازہ ترین رپورٹ کو کیا کسی حکمران یا بااختیار ذمہ داروں نے درخور اعتنا جانا، جس میں اس برس بھی قحط سالی سے مزید اموات ہونے کے خطرے سے آگاہ کیا گیا ہے؟
حکمرانوں کو میٹرو بسوں، اورنج ٹرینوں جیسے میگا پراجیکٹس پر اربوں لگانے کی بجائے معاشی ترجیحات میں غریب ترین طبقے کو شامل کر کے ان کے لیے بھی کام کرنا چاہئے۔ پاکستان کی آدھی سے بھی زیادہ آبادی غریب ترین ہے۔ کراچی میں ایشیا کی سب سے بڑی جھگی بستی (Slum) آباد ہے۔ میگا پراجیکٹس سے مزین شہر لاہور میں راوی کے کنارے جھگیوں کے شہر آباد ہیں اور تو اور، شہر اقتدار اسلام آباد میں کچی آبادیوں میں تقریباً اسی ہزار افراد انتہائی مخدوش معاشی حالات میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ موسم انتہائی گرم ہو جائے یا شدید ترین سرد یا پھر قحط سالی، یہی بدحال لوگ سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ کراچی کی صورتحال سامنے ہے۔ ایمرجنسی کی صورت میں نہ ہسپتالوں میں جگہ تھی نہ قبرستانوں میں، نہ دوائیں دستیاب تھیں نہ ڈاکٹر میسر۔ اگر خطِ غربت سے نیچے بسنے والوں کے لیے کوئی پالیسی نہ بنائی گئی تو پھر ایسی کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں حکومتوں کو بڑے چیلنج کا سامنا ہو گا۔ کراچی میں تو ریسکیو سسٹم کی قلعی کھل چکی ہے جہاں 1122 کی ایمبولینسیں ناکارہ کھڑی، کرپٹ سیاستدانوں کی ناکام پالیسیوں کا مذاق اڑا رہی ہیں۔ بہرحال اس ایشو پر حکمرانوں کو کچھ نہ کچھ ضرور کرنا ہو گا اب زیادہ دیر ایسا نہیں ہو سکتا کہ غریب تو موسمی تغیرات میں مرتے رہیں اور حکمران موسمی شدت کے حفاظتی حصار میں بیٹھے ان سے لطف اندوز ہوتے رہیں۔
یاد رکھیں، حبس کی انتہا طوفان کا پیشہ خیمہ ہے اور طوفان آتا ہے تو شہر کے بڑے گھروں اور غریب جھگیوں میں امتیاز نہیں کرتا۔ وہ سب کچھ بہا لے جاتا ہے۔ میں ارباب اختیار و اقتدار کی توجہ اس طرف بھی مبذول کروانا چاہوں گی کہ پچھلے کچھ برسوں سے رمضان المبارک کا رحمتوں والا مہینہ ہم پر بھاری کیوں ہو جاتا ہے۔ یہ کراچی کی ہلاکتیں، بھی اسی مہینے میں ہوئی۔ ہولناک زلزلہ بھی اسی ماہ مقدس میں آیا تھا۔ کل بھی مانسہرہ کی طرف زلزلے کی خبر تھی۔ یہ واقعی رحمتوں کا مہینہ ہے جو ہمیں جھنجھوڑتا اور خواب غفلت سے جگاتا ہے۔ کاش ہم آنکھیں کھولیں۔
(بشکریہ روزنامہ دنیا)

Leave a Reply